Home / Entertainment / بیوی کے ساتھ ہمبستری کرنےمیں ان پانچ چیزوں کا خیال رکھنا ہوگا

بیوی کے ساتھ ہمبستری کرنےمیں ان پانچ چیزوں کا خیال رکھنا ہوگا

ہم میاں بیوی ایک دوسرے کو بے پناہ چاہتے ہیں ، پھر بھی ہماری جنسی زندگی کچھ ٹھیک نہیں جارہی ۔‘‘یہ شکایت ایک پڑھی لکھی خاتون نے کی ہے ۔ وہ ہائی سکول میں ٹیچر ہے اور خاصی ذہین اور سمجھدار ہے ۔اچھا تو کیا تم نے اپنے شوہر سے اس مسئلہ پر گفتگو کی ہے ؟

میں نے زرینہ سے اس کی شکایت سن کر کہا اس کا شوہر لاہور کے ایک ہسپتال میں معروف ڈاکٹر ہے ۔ دونوں کی شادی کو بارہ برس بیت چکے ہیں۔ میں جب کبھی ان کے گھر جاتا ہوں تو ایک خوش باش اور معقول حد تک کامیاب گھرانے کا احساس ہوتا ہے ۔ زرینہ اپنی شکایت نوک زبان پر نہ لاتی

تو مجھے ان کی ازدواجی زندگی میں اس خامی کا کبھی احساس نہیں ہوسکتا تھا۔میں اس سے ہربات کرسکتی ہوں۔لیکن بابا، میں سیکس پر بات نہیں کرسکتی ۔ ہمت ہی نہیں پڑتی ۔ زرینہ کہنے لگی ۔ آخر میں اسے کیسے بتاؤں کہ میں کیا چاہتی ہوں ۔آپ جانتے ہیں کہ یہ صرف زرینہ کا مسئلہ نہیں ۔

مختلف تعلیمی اور سماجی حیثیت رکھنے والی عورتوں کو اکثر اوقات اسی قسم کے احساسات ہوا کرتے ہیں ۔ اس کے علاوہ یہ صرف ہمارے ملک کا معاملہ نہیں ہے۔ امریکا جیسے ترقی یافتہ اور جنسی طورپرآزاد روئیے رکھنے والے ملک میں بھی صورت حال اسی قسم کی ہے ۔

اکثر شادہ شدہ افراد اپنے ساتھیوں کی جنسی ترجیحات سے بے خبر ہوتے ہیں ۔یہ الفاظ پامیلا شروک کے ہیں ۔ شروک صاحبہ امریکا کی نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کے جنسی تعلیم کے پروگرام میں ذہنی معالجہ ہیں۔

ایک اور ممتاز امریکی ماہر کیتھلسن میکائے نے چند سال پہلے بہت سی شادی شدہ خواتین کا ایک غیر رسمی سروے کیا تو معلوم ہوا کہ ان کی کئی ایسی جنسی ضرورتیں ہیں جن سے ان کے شوہر بالکل بے خبر رہتے ہیں ۔ عورتیں چاہتی ہیں کہ کسی نہ کسی طور ان کے شوہروں کو ان ضروریات کی اطلاع ہوجائے ۔

مگر مسئلہ وہی ہے ’’ سمجھ میں نہیں آتا بات کہاں سے شروع کی جائے‘‘ ۔سروے مکمل کرنے کے بعد کیتھلسن میکائے نے امریکا کے چھ بہترین جنسی معالجین سے اس موضوع پر گفتگو کی ۔ تعجب کی بات ہے کہ وہ بھی ان عورتوں کی رائے سے متفق تھے کہ ان کے شوہروں کو ان جنسی ضرورتوں کو علم ہونا چاہئے ۔

آپ ان کو ایسے جنسی راز قرار دے سکتے ہیں جن سے عورتیں اپنے شوہروں کو باخبر دیکھنا چاہتی ہیں۔ عورت کے لیے جنسی فعل زندگی کا جزو ہوتا ہےمردوں کو یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ اکثر عورتیں اس وقت تک جنسی طور پر مطمئن نہیں ہوتیں

جب تک ان کی مجموعی ازدواجی زندگی خوش گوار نہ ہو۔ گویا یہ نہیں ہوتا کہ ان کے دن اچھے نہ ہوں مگر راتیں اچھی ہوجائیں ۔سات برسوں سے حمید کے ساتھ بیاہی ہوئی انتیس سالہ بانو کا کہنا ہے کہ ’’ حمید کو اس بات کی سمجھ نہیں آتی ۔ اس پردفتری کام کا بہت بوجھ ہے ۔ وہ بجھا بجھا سا گھر آتا ہے ۔

میرے ساتھ کوئی بات نہیں کرتا ،کسی چاہت کا اظہار نہیں کرتا ۔ آدھی رات تک ٹیلی ویژن دیکھتا رہتا ہے ۔پھر بیڈروم میں آتے ہی مجھے دبوچ لیتا ہے۔میں فورا ہی گرم جوشی نہ دکھاؤں تو اس کا موڈ بگڑ جاتا ہے‘‘ ۔بیڈ پر بیوی کے روئیے کا تعین اس امر پر ہوتا ہے کہ گھر میں شوہر کا رویہ اس کے ساتھ کیسا ہے

اور گھر کے مجموعی ماحول کی کیفیت کیا ہے ۔ اگر دونوں کی شام لڑنے جھگڑنے یا ایک دوسرے سے بے نیازی میں گزری ہو تو پھر بیڈ پر عورت سردمہر اور لاتعلق ہوتی ہے ۔ اکثر شوہر عورت کی اس فطرت سے لاعلم ہیں ۔ لہذا وہ بہت حیران ہوتے ہیں ۔ چنانچہ تینتالیس سالہ جمیل پوچھتا ہے

’’ عورت جنسی لمحات کو بذات خود اہم کیوں نہیں سمجھتی ؟ وہ ان کی قدر کیوں نہیں کرتی ؟ ان لمحوں سے لطف اٹھانے کے بجائے وہ پرانے لڑائی جھگڑے لے کر کیوں بیٹھ جاتی ہے ‘‘؟ ۔

رشتہ دار، دوست آتے ہیں، مرنے والے کےلیے دعا کرتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔ آج کل تو میتوں پر بھی پھول لانے کا رواج بن چکا ہے

About welivenews@4949

Check Also

بچے بستر پر پیشاب کیوں کرتے ہیں؟

چھوٹے بچوں میں ،بستر پرپیشاب کا نکل جانا ایک عام بات ہے۔ یہ پانچ سال …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *